Log in to Faxo
All your favorite apps in oneInvest in Faxo
Continue with Google
Continue with Facebook
Continue with Apple
Use phone, email, or Bluesky
خدا تمہاری توقیر سلامت رکھے، خان! تم وقت کے سارے خودساختہ خداؤں سے الجھ بیڻھے ہو.
دوستو! میرا تعلق سندھ سے ہے، جہاں ہمیشہ پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا ہے۔ میری پوری فیملی اسی جماعت سے وابستہ ہے، اور کئی فیملی میمبر، قریبی رشتہ دار اور دوست اس کے سیاسی دھارے میں اہم عہدوں پر فائز ہیں.
مگر اس سب کے باوجود، میری تعلیم، شعور اور ضمیر مجھے سکھاتے ہیں کہ حق و انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا لازم ہے چاہے وہ ہمارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو.
خان صاحب سندھ میں کبھی زیادہ مقبول نہیں رہے، اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 3 سال اقتدار میں آ کر انہوں نے سندھ کے لیے کوئی نمایاں کام نہیں کیالیکن سوال یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی جو گزشتہ تقریباً پچاس برس سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے، اس نے کون سے شہد و دودھ کی نہریں بہا دی ہیں؟ سندھ آج بھی پسماندگی، بدانتظامی اور کرپشن کی لپیٹ میں سارے صوبوں سے نمبر 1 پر ہے.
میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی میں تحریک انصاف کا کارکن یا حمایتی ہوں مگر میں خان کے ساتھ اس لیے کھڑا ہوں کہ وہ دوسرے سیاستدانوں کی طرح جاہل نہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ ہے، کرپٹ نہیں ہے، خاندانی سیاست کا پیروکار نہیں ہے، دلیر ہے، اور آج مظلوم ہے اور صرف اس لیے قید ہے تاکہ اس نظام کے خود ساختہ خداؤں کی انا کو تسکین دی جا سکے.
افسوس! ہم بطور قوم کس طرف جا رہے ہیں؟
دنیا آگے نکل چکی ہے، ہم آج بھی سیاسی انتقام کے نام پر اپنے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں جیسے کل کوئی اور پیدا ہی نہ ہو سکے.
یہ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے لیے باعثِ شرم ہے بلکہ تمام سیاستدانوں کے لیے بھی با عث شرم اور لمحۂ فکریہ ہے۔بیرسٹر شاھد حسین سومرو